Category Archives: Long Stories

گلی

وں تو ھمادے معاشرے ميں یہ باتیں صرف افسانوی لگتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھار حقیقت میں بھی ان کا وجود پایا جاتا ہے۔بہت پہلے کی بات ہے جب میں آٹھ سال کی تھی میرے بہت اصرار پر میرے گھر والوں نے گرمیوں کی چھوٹیاں گذارنے کے لئے ےخالا کے گھر بہيجھا ۔صبح سويرے اپنے والد کے ساتھ گھر سے نکلی کچھ ذيادہ راستہ نہي تھا اس لئے آٹھ نو بجےہی پہنچ گے۔ميرے والد محترم کو تو اسی شام پانچ بجے واپس انا پڑا۔ لکين ميں اپنی خالا خالو اور اپنی کزن رابعہ اور اس کے بھائی اسد کے ساتھ رہنے لگی۔اب ہمارا عموماً سارا وقت کھيل و کود ميں گزرتا۔ميرے خالو جو ايک درزۍ تھے اور گھر ميں ہی کام کرتے تھے۔ہميں اکثر باہر جانے سے روکا کرتے تھے۔ليکن ہم کيسے روکتے ہميں تو ايک ہی کام تھا کيھلنا۔کھيلتے کھيلتے ہمیں وقت کا احساس بھی نہ رہتا کہ شام ہو جاتی۔ايک رات جب ہم تينوں بيٹھے کام کر رہے تھے کہ بہت شور کی آواز سنائی دی۔ جب باہر گئے تو کچھ لوگ گلی ميں بہت پرشان کھڑے عجيب عجيب باتيں کر رہے تھے۔کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ رات گلی سے عجيب سی آوازيں سنائی ديتی ہيں۔اور کچھ لوگوں کو مختلف طرع سے انہونی چيزوں کا بھی سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔کچھ لوگ تو يہاں کے عادی تھے مگر وہ لوگ جو بھی اس محلے ميں نئے آتے وہ گھر چھوڑ کے چلے جاتے۔يہ سب تو صرف دوسروں کے منہ سے سنی ہوئی باتيں تھيں جن پر ميں نے کوئی خاص توجہ نہيں دی۔اور ہر روز کی طرع آکر کمرے ميں اپنے کام ميں لگ گئی۔اسی طرع دن گزرتے گئے اور ميںں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرتی رہی۔یہاں تک کہ ميں نے خود بھی کچھ آوازيں اور عجيب سا احساس محسوس کيا۔اسی گلی ميں عورتيں شام کے وقت کنوہے کے قريب باتيں کر ری تھيں کہ ميں بھی وہاں موجود تھی ايک عورت خالہ جان سے باتيں کرتيں ہوے بتا رہی تھی کہ اس کو کل رات اچانک بچوں کے رونے کی آوازہں سناہی دی ۔ باہر آ کر ديکھا تو دوچھوٹے چھوٹے بچے ننگےپڑے رو رہے تھے۔جيسے ہی ميں اٹھانے آگےبڑھی تو ميرے شوہر نے روک ديا۔اندر لے جانے کے بعد انھوں نے بتايا يہ کوئی بچہ نہيں تھا جيسے تم اٹھانے چلی تھی۔يہ سن کر ميں اندر آ گئی جيسے ميں يہ سن سن کر تھک گئی اسی رات جب ميری آنکھ کھولی تو کچھ آواز محسوس ہوئی جيسے گھنگروہوں کی چھنکار۔ميں بستر پے ليٹی رہی جيسے کچھ بھی نہيں ہوا۔ رفتہ رفتہ آواز کبھی بڑتی تو کبھی کم ہو جاتی اور ميں پھر سے ايک بار نيند کی آغوش ميں چلی گئی۔ لوگوں کا تو يہ کہنا تھا کہ يہ گلی آسيب زدہ ہے چونکہ وہ کافی وقت سے يہںاں رہ رہے تھے۔ مگر ميرے لئے يہ بات بلکل ايسے ہی تھی جيسے کوئی اک کہانی سنا رہا ہو۔نئے لوگوں نے تو گلی ميں گھر لينا بھی ڇھوڑ ديا تھا۔ہاں جن کا اپنا گھر تھا ان کا جانا مشکل تھا کافی وقت سے يہںاں رہنے کی وجہ سے وہ يہا ں کے ماحول سے کسی حد تک عادی بھی ہو چکے تھے۔سننے ميں تو يہ بھی آيا تھا کہ اک گھر تو پورے کا پورا ہی آسيب کی گرفت ميں آگيا تھا۔اور وہ تو اپنا گھر بھی چھوڑ کے جا چکے تھے جو ابھی تک خالی تھا کو ئی بھی ڈر کے مارے وہاں جاتا ہی نہيںں تھا ہر روز کی طرع آج بھی شام ميں ہم تينوں کھيلنے نکلے پہلے تو ہم خوب کھيلےپھر دات کے وقت ميں دوکان سے جو گلی کے باہر تھی کچھ کھانے کی چيز لی اور وآپس آ گئی جبکہ میرے کزن پہلے ہی گھر جا چکے تھے۔مگر اسد اب بھی اپنی پھوپھی کے گھر جو أسی گلی کے کونے ميں تھا وہاں اپنے کزن کے ساتھ ابھی بھی کيھل رہا تھا۔ميرے گھر داخل ہوتے ہی خالہ نے کہا اسد کو بلا لاؤ ۔ميں اسد کو بلا نے نکلی ہی تھی کہ گلی ميں ميں نے اپنے ماموں کو آتے ديکھا۔جب وہ ميرے قريب آے تو انھوں نے پوچھا تم کہا جا رہی ہو چلو واپس خالہ کے گھر ۔ميری يہ بات سن کر کے ميں اسد کو بلا کے آتی ہو وہ آگے بڑھ گئے۔اور ميں اسد کو لے کر جب گھر ميں داخل ہوئی ۔ديکھتی ہوں کہ خالہ فون پر کسی سے باتيں کر رہی جب ميں نے جاننا چاہا تو پتہ چلا کے وہ ماموں سے بات کر رہی ہيں۔جی ہاں يہ وہی ماموں تھے جو کچھ دير پہلے مجھے گلی ميں ملے يہ سن کر ميرے رونٹے کھڑے ہو گئے ۔ميں نے ايک بار پھر سے پوچھا کيا يہ ماموں ہی ہيں۔ميری بات سن کر خالہ نے فون رکھ ديا۔اور خالو جو پاس ہی بيٹھے تھے مجھے ديکھنے لگے۔مزيد تفصيل بتاتے ہوے خالہ نے کہا کہ وہ تو دو دن سے شہر سے باہر کسی کام سے گئے ہيں۔اب تو جيسے ميرا پورا جسم لرازنے لگا ہو۔ميری حالت ديکھ کرخالو کے پوچھنے پر ميں نے سب بتايا۔با قول ان کے يہ ہی وجہ تھی جسکے ليے وہ باہر جانے سے روکتے تھے اب ميں جان چکی تھی کہ بڑوں کی ہر بات کے پیچھے کوئی نا کوئی حکمت ہوتی ہے۔ لیکن اب ميں نے سوچ لياتھاکہ ميں وآپس گھر جاؤں گی۔تين دن بخار ميں گزارنے کے بعد ميں اپنے خالو کے ساتھ واپس آ گٸ کيونکہ اب ميرا وہاں رہنا بہت مشکل تھا۔ اس سارے واقعے نے مجھے يہ سوچھنے پر مجبور کر ديا کہ يہ سب حقيقت ميں بھی ہوتا ہے۔ تحرير عروج چودھری