Category Archives: Blogs

حب آلوطنی

بعض اوقات ہم اپنی اصليت سے بہت دور انجان کھڑے دوسروں کے عيب تلاش کر رہے ہوتے ہيڻ۔ دوسروں کو تو ہم غور سے ديکھ رہے ہوتے ہيں مگر خود جہاں ہم کھڑے ہيں وہاں ہميڻ ہونا چاہئے کہ نہيں وہ مقام ہمارا ہے کہ نہيں يہ ياد دلانے کے لئے ہميں دوسروں کی نظر کی ضرورت پڑتی ہے۔ کتنی آسانی سے ہم يہ بول ديتے ہېں کہ پاکستان نے ہميں آج تک ديا کيا ہے۔ کبھی ہم ہيں سے ہر شحض نے خود سے پوچھا ہے کہ ہم نے اس کے لېے کيا کيا؟ جب ہم بات لينے اور دينے کی کرتے ہيں تو ہميں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان نے ايسا کيا ہے جو ہمېں نہيں ديا۔ کيا يہ ہمارا گھر نہيں ہے يہاں ہميں تحفظ نہيں ملا کيا ہم اپنے ہر فعل ميں يہاں آزاد نہيں ہے اگر يہاں بھی ہم آزاد محسوس نہيں کرتے يا دل کھول جی نہيں سکتے تو پھر کہاں۔ وہ اور کون سی جگہ ہے جہاں ہم خود اعتمادی سے اپنی ايک سوچ لئے جی سکے۔ جہاں ہمارا ہر فيصلہ اپنا ہو اور ہماری اپنی ايک الگ پہچان۔ يہ سب دا ہے ہميں پاکستان نے۔ اس ملک کے کسی بی صوبے کے لوگ ہوں چاہے وہ آپس مېں مطابقت نہ رکھتے ہوں مگر وقت آنے پر وہ سب ايک پرچم کے تلے صرف پاکستانی بن کے کھړ‎ے ہوتے ہيں۔

طلبہ کی کئرئر کونسلنگ

‎ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسلۂ وہ نہیں جانتے کہ انہیں کس منزل کی طرف چلنا چاہئے یا پھر وہ کون سی راہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی منزل پاسکے۔ اس بات سے کوئ بھی انجان نہیں کے بچوں کو راہ دیکھانے کا کام ہمیشہ انکے کے بڑے یعنی ماں باپ کرتے ہیں۔ آجکل اکثر یہ آتا ہے کہ ہمارے نوجوان اپنے شعبے کا فیصلہ خود اپنی خواہش کے مطابق کرتے ہیں یا پھر ماں باپ کی دیکھائ ہوئی راہ پر آنکھیں بند کر کے چل پڑتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کے شعبے کا انتخاب اسے خود کرنا چاہیے۔ ماں باپ کو اپنی رائے بچوں پر مسلت نہیں کرنی چاہیے۔میرا اپنا زاتی خیال یہ ہے مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ ایک بچہ جس راہ پر چلنا چاہتا ہے وہ چل بھی سکتا ہے کہ نہیں یا پھر اسکا اتنا لمبا سفر طے کرنے کا انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ بعض اوقات ماں باپ کی نگاہئں وہ کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں جسے سمجھنے سے بچہ قاصر ہوتا ہے لیکن اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بچوں کی خواہش کو رد کر دیا جائے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان وہ م اچھے سے کرتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔مگر بعض اوقات وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ جو وہ چاہتا ہے کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بچہ جائے تو کد ھر جائے اس بات کو سمجھنے کے لیے نہ صرف اپنی خواہش اور بڑوں کے فیصلے کو عمل میں لانا چاہئے بلکہ اپنے ارد گرد کے حالات کو دیکھنا اور اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچاننا بھی بہت ضروری ہے۔ آخر کار سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے نتیجے پر پہنچنا ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے اس بچے کے لیے مناسب ہوں۔

چٹان

اس دنيا ميں جب بھی کھبی ننھی جان آتی ہے تو وہ اپنے ساتھ خوشياں اور بہاريں لے کر آتی ہے اور اس کی پھول جيسی مسکراہٹ سے پورا آنگن جگمگا اٹھتا ہے۔ اس کے ننھے ننھے ميں صرف کھلونے ہوتے ہيں۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس گھر کی ديواروں کو پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے تاکہ وہ بھاگ سکے۔ آگے بڑھتا ہوا وقت اسے اس بات کا احساس بھی نہيں ہونے ديتا کہ یہ اک نازک سی کلی سے کھل کر ايک خوبصورت پھول بن جاتا ہے۔ کل تک گھر کی ديواروں کے سہارے چلنے والا يہ بچہ آج ايک فوجی بن کر اس گھر کی حفاظت کرتا ہے ۔ جسے ہم ملک کہتے ہيں ۔ اس کے ہاتھوں ميں اب بھی کھلونے ہوتے ہيں مگر دل بہلانے والے نہيں جان لينے والے وقت نا صرف ان کے کھلونے اور محافظ بدلتا ہے بلکہ انکی سوچ احساس و جذبات سب بدل ديتا ہے۔ سارا لفظوں ميں کہے تو يہ غلط نہيں ہوگا کہ وقت انھيں ايک پھول سے چٹان بنا ديتا ہے۔ ايسا چٹان جس سے ٹکر کر ہر چيز چور چور ہو جاتی ہے۔ اور اگر يہ چٹان ٹوٹ بھی جائے تو اپنے ساتھ ساتھ کہيں طوفان بہانے جاتی ہے۔

Written by urooj chaudry.

پہچان

اس دنيا کا غافل انسان کبھی يہ نہيں جان سکتا کہ وہ اس دنيا ميں ايا کيوں ہے۔ اس نے کيا کيا ہے اور اسے کرنا کيا ہے وہ اسی راستے چلنے لگتا جو اسے آسان لگتا ہے۔ کبھی پيسے کی لالچ ميں تو کبھی جوانی کے جوش ميں گناہوں کی آڑ ميں لگا رہتا ہے۔ بنا منزل کا پتہ کۓ ايسے چلے چلا جاتا ہے جيسے وہ کہيں بھی جا پہنچے۔ اور اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ جاکہ کھائ ميں گر جاتا ہے۔ دنيا کی ذلالت اٹھانے کے بعد ايک ايسا وقت بھی آتا ہے کہ انسان اپنی اصليت اور اس دنيا کی حقيقت سمجھنے لگتا ہے۔ اسکا وجود کيا ہے کيوں ہے بنا اور اسکا فعل ليا ہے وہ جاننے لگتا ہے اور يہ وہ وقت ہے جب وہ اس راستے پر چلنے لگا ہے اور جو ٹھيک ہوتا ہے۔ جس پر اسے بہت پہلے چل لينا چاہئے ہوتا ہے۔ پھر اس کا ہر ارادہ ہر فعل سچائ کے راستے پے چلتا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا عمل ناصر دوسروں کے لئے بلکہ اس کی اپنی ذات کے لئے بھی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ تب وہ جانتا ہے کہ انسان کی اہميت کا اور کيوں خدا نے اسے اشرافلمخلوقات کا عہدہ ديا ہے۔ یہ جاننے کے بعد اسکا ہر عمل صرف خدا اور اسکے بندوں کی خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔ اور اسے لگا ہے کہ وہ ٹھيک معانی ميں اب خود کو پہچانا ہے۔