Category Archives: SCRIPTS

حب آلوطنی

بعض اوقات ہم اپنی اصليت سے بہت دور انجان کھڑے دوسروں کے عيب تلاش کر رہے ہوتے ہيڻ۔ دوسروں کو تو ہم غور سے ديکھ رہے ہوتے ہيں مگر خود جہاں ہم کھڑے ہيں وہاں ہميڻ ہونا چاہئے کہ نہيں وہ مقام ہمارا ہے کہ نہيں يہ ياد دلانے کے لئے ہميں دوسروں کی نظر کی ضرورت پڑتی ہے۔ کتنی آسانی سے ہم يہ بول ديتے ہېں کہ پاکستان نے ہميں آج تک ديا کيا ہے۔ کبھی ہم ہيں سے ہر شحض نے خود سے پوچھا ہے کہ ہم نے اس کے لېے کيا کيا؟ جب ہم بات لينے اور دينے کی کرتے ہيں تو ہميں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان نے ايسا کيا ہے جو ہمېں نہيں ديا۔ کيا يہ ہمارا گھر نہيں ہے يہاں ہميں تحفظ نہيں ملا کيا ہم اپنے ہر فعل ميں يہاں آزاد نہيں ہے اگر يہاں بھی ہم آزاد محسوس نہيں کرتے يا دل کھول جی نہيں سکتے تو پھر کہاں۔ وہ اور کون سی جگہ ہے جہاں ہم خود اعتمادی سے اپنی ايک سوچ لئے جی سکے۔ جہاں ہمارا ہر فيصلہ اپنا ہو اور ہماری اپنی ايک الگ پہچان۔ يہ سب دا ہے ہميں پاکستان نے۔ اس ملک کے کسی بی صوبے کے لوگ ہوں چاہے وہ آپس مېں مطابقت نہ رکھتے ہوں مگر وقت آنے پر وہ سب ايک پرچم کے تلے صرف پاکستانی بن کے کھړ‎ے ہوتے ہيں۔

محبت کی حقیقت

محبت کیا ہے؟ یوں تو صرف ایک لفظ ہے۔ محبت کہنے کو لفظ اور محسوس کرنے کا جذبہ ہے اور جذبات کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے لکھا یا بتایا نہیں جا سکتا لیکن اگر ہم اسے کوئی نام دینا بھی چاہے تو غلط نہ ہوگا کہ محبت وہی احساس ہے جو کسی بے جان چیز میں جان ڈال دیتی ہے یہ با لکل ویسی ہی ہے جیسے کسی پودے کو پانی دے کر پھر سے ہرا بھرا کیا جائے تا کہ وہ پھر سے اپنی بھرپور زندگی جی سکے۔ یہ وہ جادو ہے کہ جس کے احساس سے انسان ہر چیز سے بیگانہ ہوجاتا ہے اگر اسے کچھ دکھائی دیتا ہے تو صرف وہ چیز جسے وہ محبت کرتا ہے یوں تو محبت کسی بھی چیز سے ہو سکتی ہے مگر آج کل دور میں لڑکوں کے
منہ سے کسی لڑکی کا یا پھر کسی لڑکی کے منہ سے کسی لڑکے کا نام سننے کو ملتا ہے۔ کیا یہ محبت ہے؟ ہو بھی تو سکتی ہے، وہ بھی تو محبت ہوتی ہے جو کسی بھائی کو اپنی بہن سے ہوتی ہے یا پھر کسی ماں کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ یہ محبت ہو ۔ کبھی کبھی رشتے بھی ضرورت ہوتے ہیں کیوںکہ ان میں دینے سے زیادہ لینے کی چاہت ہوتی ہے، جب غرض ایک دروازے سے داخل ہوتی ہے تو محبت دوسرے دروازے سے نکل جاتی ہے محبت کسی سودہ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف دینے کا نام ہے جیسے خدا اپنے بندوں کو کرتا ہے ا ور محبت کا سب سے بڑا سر چشمہ تو بس اس خدائی کی ذات ہے، کیا اس سے فرق پرتا ہے کہ محبت کس سے اور کتنی ہے؟ شاید نہیں
کیوں کہ محبت ایک پاک سا رشتہ ہے ایک میٹھا سا احساس ۔ ایک ایسا آغاز جکا ختتام نہیں ہوتااور وہ جو ختم ہوجائے وہ محبت نہیںہوتی ، وہ ایک کشش ہوتی ہے اور کشش بھی محبت کا روپ نہیں دھار سکتی۔ یہ تو انسانی فطرت ہے کہ جو ں دوں وہ بدلے میں مل جائے ، نہ ملے تو روتا ہے چلاتا ہے۔ کیا ایسا کرنے سے محبت مل جاتی ہے۔۔ نہین بالکل بھی، اور اگر مل بھی جائے تو وہ محبت ہوتی ہے ہمدردی نہیں۔
آئو سوچتے ہیں کہ محبت کسی کو توڑتی ہے یا جوڑتی ہے۔ کمزور کردیتی ہے یا مضبوط بناتی ہے
بہت مضبوط اتناکہ وہ کھچ بھی کر سکتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ محبت توڑتی ہے تو وہ جوڑ بھی سکتی ہے اس کے راستے میں کانٹے ہوں ، تکلیف دینے والے پتھر ہوں جو درد سے پائوں کو زخمی اور خون سے لہو لہان کردے مگر یہ کسی کو توڑتی نہیں ہے ، اس کا احساس انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا، اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو یہ محبت اتنی مضبوط شکل اختیار کر جاتی ہے کہ چٹان سے ٹکرا جاتی ہے اوریہ محبت ہی ہے جو پتھریلے چٹان کو پگلا کر موم بنا دیتی ہے محبت کے اندر انسان بغیر پروں کے آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے کہ کیا ہے بلندی اور اس چیز کو کھو دینے کا احساس ۔ جسے وہ محبت کرتا ہے تو وہ اتنی ہی بلندی سے خود کو گرا ہو محسوس کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ کوئی آئے اور اس کو اس درد سے نکال لے، مگر کیا ایسے ممکن ہوتا ہے؟ نہیں، جیسے گزرا ہو وقت واپس نہیں آتا اسی طرح ٹوٹا ہوا دل واپس نہیں جڑتا۔مگر ٹوٹ کر بھی انسان خود کو ٹوٹا ہو ا محسوس نہیں کرتا بلکہ وہ پھر سے سنبھلتا ہے چلتا ہے آگے بڑھتا ہے۔ محبت باغ میں خھلے اس پھول کی مانند ہے جو کھلتا ہے تو پورا باغ جگمگا اٹھتا ہے کہ جیسے بہار آگئی ہو ، اور یہی پھول جب مرجھا جاتا ہے تو پورے باغ کی رونق ہی ختم ہوجاتی ہے جس طرح ہر اچھی لگنے والی چیز کو محبت کا نانم نہیں دیا جا سکتا اسی طرح ہر رشتے میں احساس تو ہوتا ہے لیکن محبت بہت کم اور خاص رشتوںمیں ہوتی ہے۔
بقول کچھ لوگوں کہ ہم محبت میں ہار یا پھر جیت گئے کیا یہ ایک کھیل ہے؟ اگر کھیل ہے تو پھر کیوں کسی کو فرق پڑتا ہے کسی کی ہار جیت سے۔ نہیں یہ کھیل نہیں بلکہ ایک میدان ہے جس میں کھلاڑی کھیلنے تو آتے ہیں مگر کون ہارتا ہے یا کون جیتتا ہے اس سے فرق پڑتا ہے کیوں کہ یہ کھیل نہیں ہے ، ایک بار جو اس راستے پر چل پڑا پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، ہاں اس کے راستے میں قدم قدم پر درد او ر کانٹے ہیں جو آپ کے پائوں کو زخمی کر کے لہو لہان کر دے گی مگر اسی درد سے آپ کو خوشی کا احساس بھی ہوتا رہتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں نا ہار گئے یا جیت گئے ایسا محبت میں نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا اور جو ختم ہوجائے وہ محبت نہیں ہوتی کسی کو پا لینا جیت نہیں اور کسی کو کھو دینا ہار نہیں یہ دل کا رشتہ ہوتا ہے جو دنیاوی رشتے جسے رسمی رشتے کہا جاتا ہے اس سے بہت آگے ، دراصل کسی بھی انسان کو اس رشتے کی کمی زیادہ محسوس ہوتی ہے کیوں کہ محبت کے بنا زندگی ایسی ہی ہے جس کا نہ تو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وجود۔یہ جذبہ ہر انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہیاسے بس اپنے ابندر جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اسے کہاں تک اور کس طرح استعمال کرے گابعض لوگ محبت کا دعوہ بہت خوشی سے کرتے ہیں لیکن ان کو خود کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ انھیں خود سے بھی محبت ہے یا نہیں ۔ وہ انسان کسی سے کیا محبت کرے گا جو خود سے ہی محبت نہیں کر پاتا
ہر گز ایسا نہیں ہے کہاجاتا ہے کہ وہ کسی اور سے محبت نہیں کرتا جو خود سے محبت کرتا ہے ایسا کرنا بالکل غلط ہوگاکیونکہ جب آپ اپنے وجود کے احساس سے محروم ہو وہ دوسرے کو کیسے محسوس کر سکتے ہیں دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کے لئے بھی خود کو محسوس کرنا اور ان کے درد کو اپنا درد سمجھ کرمحسوس کرنا ہوتا ہے۔ مانا کہ محبت میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں مگروہ قربانیاں آپ کے رشتے کو پاک بنا دیں ۔ میری نظر میں مرجانا محبت نہیں بلکہ جینا محبت ہے ۔ محبت رسوائی کا نام نہیں بلکہ آباد کرنے کا نام ہے۔ مانا زندگی کے وجود کی اہمیت سے
انکار نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بھی سچ ہے ک محبت صرف ملن نہیں ہے یہ صرف قربانی مانگتی ہے پھر چاہے وہ جدائی ہی شکل میں کیوں نہ ہو۔ یہ بھی سچ ہے کہ آپ کو اپنے وجود کا احساس بھی تبھی ہوتا ہے جب آپ کو کسی دوسرے کے وجود کا احساس ہونے لگے۔اور یہ بھی محبت ہی ہوتی ہے جب آپ کو اپنی خوشی سے زیادہ دوسرے کی خوشی سے عزیز لگیورنہ تو انسان سے زیادہ کوئی خودغرض نہیں ہے ۔ بس احساس ہی وہ واحد چیز ہے جس سے اپنی ہنسی کو محسوس کیا جا سکتا ہے دوسروں میں کھو کر خود کو محسوس کرنے میں خوشیاں ہیں ، درد کا تو کوئی وجود ہی نہیں ، یہ ہوتی ہے محبت، جو درد ، درد کرتے پھرتے ہیں اگر اس درد کع بھی خوشی میں سمیٹ لیں تو کوئی درد نہیں رہتا۔
بس چپ چاپ برداشت کرجانا ہے محبت۔ یہ ہے محبت کی اصل حقیقت اسکو کہا جاتا ہے۔ محبت جس میں قربانی ، اذیت ، احساس ، درد اور دوسروں کی خوشی ہو بس اپنی ہستی ایسی ہو جیسے مٹ چکی ہو، یہ ایک پاک سا بندھن ہے۔ اس انسان پر الزام لگا دینا کہ تم نے یہ کیا اب محبت نہیں رہی۔ یہ صرف باتیں ہیں اپنا اور دوسروں کا دل بہلانے کے لئے ، مگر محبت شروع ہوتی ہے لیکن ختم نہیں ہوتی، جس میں طرح طرح کے مقام ہوتے ہیں ، جس میں عروج و زوال سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اس راہ پر چلتے چلتے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے
اور اس فانی دنیا سے اسکا نام اس کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے کچھ باقی نہیں رہتا ، اور اگر کچھ باقی رہتا ہے تو وہ ہے محبت۔ کیوں کہ محبت کبھی نہیں مرتی، اس کو زوال نہیں آتا۔ یہ ہے محبت کی حقیقت۔

: عروج چوہدریتحریر

طلبہ کی کئرئر کونسلنگ

‎ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسلۂ وہ نہیں جانتے کہ انہیں کس منزل کی طرف چلنا چاہئے یا پھر وہ کون سی راہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی منزل پاسکے۔ اس بات سے کوئ بھی انجان نہیں کے بچوں کو راہ دیکھانے کا کام ہمیشہ انکے کے بڑے یعنی ماں باپ کرتے ہیں۔ آجکل اکثر یہ آتا ہے کہ ہمارے نوجوان اپنے شعبے کا فیصلہ خود اپنی خواہش کے مطابق کرتے ہیں یا پھر ماں باپ کی دیکھائ ہوئی راہ پر آنکھیں بند کر کے چل پڑتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کے شعبے کا انتخاب اسے خود کرنا چاہیے۔ ماں باپ کو اپنی رائے بچوں پر مسلت نہیں کرنی چاہیے۔میرا اپنا زاتی خیال یہ ہے مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ ایک بچہ جس راہ پر چلنا چاہتا ہے وہ چل بھی سکتا ہے کہ نہیں یا پھر اسکا اتنا لمبا سفر طے کرنے کا انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ بعض اوقات ماں باپ کی نگاہئں وہ کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں جسے سمجھنے سے بچہ قاصر ہوتا ہے لیکن اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بچوں کی خواہش کو رد کر دیا جائے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان وہ م اچھے سے کرتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔مگر بعض اوقات وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ جو وہ چاہتا ہے کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بچہ جائے تو کد ھر جائے اس بات کو سمجھنے کے لیے نہ صرف اپنی خواہش اور بڑوں کے فیصلے کو عمل میں لانا چاہئے بلکہ اپنے ارد گرد کے حالات کو دیکھنا اور اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچاننا بھی بہت ضروری ہے۔ آخر کار سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے نتیجے پر پہنچنا ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے اس بچے کے لیے مناسب ہوں۔

چٹان

اس دنيا ميں جب بھی کھبی ننھی جان آتی ہے تو وہ اپنے ساتھ خوشياں اور بہاريں لے کر آتی ہے اور اس کی پھول جيسی مسکراہٹ سے پورا آنگن جگمگا اٹھتا ہے۔ اس کے ننھے ننھے ميں صرف کھلونے ہوتے ہيں۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس گھر کی ديواروں کو پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے تاکہ وہ بھاگ سکے۔ آگے بڑھتا ہوا وقت اسے اس بات کا احساس بھی نہيں ہونے ديتا کہ یہ اک نازک سی کلی سے کھل کر ايک خوبصورت پھول بن جاتا ہے۔ کل تک گھر کی ديواروں کے سہارے چلنے والا يہ بچہ آج ايک فوجی بن کر اس گھر کی حفاظت کرتا ہے ۔ جسے ہم ملک کہتے ہيں ۔ اس کے ہاتھوں ميں اب بھی کھلونے ہوتے ہيں مگر دل بہلانے والے نہيں جان لينے والے وقت نا صرف ان کے کھلونے اور محافظ بدلتا ہے بلکہ انکی سوچ احساس و جذبات سب بدل ديتا ہے۔ سارا لفظوں ميں کہے تو يہ غلط نہيں ہوگا کہ وقت انھيں ايک پھول سے چٹان بنا ديتا ہے۔ ايسا چٹان جس سے ٹکر کر ہر چيز چور چور ہو جاتی ہے۔ اور اگر يہ چٹان ٹوٹ بھی جائے تو اپنے ساتھ ساتھ کہيں طوفان بہانے جاتی ہے۔

Written by urooj chaudry.

پہچان

اس دنيا کا غافل انسان کبھی يہ نہيں جان سکتا کہ وہ اس دنيا ميں ايا کيوں ہے۔ اس نے کيا کيا ہے اور اسے کرنا کيا ہے وہ اسی راستے چلنے لگتا جو اسے آسان لگتا ہے۔ کبھی پيسے کی لالچ ميں تو کبھی جوانی کے جوش ميں گناہوں کی آڑ ميں لگا رہتا ہے۔ بنا منزل کا پتہ کۓ ايسے چلے چلا جاتا ہے جيسے وہ کہيں بھی جا پہنچے۔ اور اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ جاکہ کھائ ميں گر جاتا ہے۔ دنيا کی ذلالت اٹھانے کے بعد ايک ايسا وقت بھی آتا ہے کہ انسان اپنی اصليت اور اس دنيا کی حقيقت سمجھنے لگتا ہے۔ اسکا وجود کيا ہے کيوں ہے بنا اور اسکا فعل ليا ہے وہ جاننے لگتا ہے اور يہ وہ وقت ہے جب وہ اس راستے پر چلنے لگا ہے اور جو ٹھيک ہوتا ہے۔ جس پر اسے بہت پہلے چل لينا چاہئے ہوتا ہے۔ پھر اس کا ہر ارادہ ہر فعل سچائ کے راستے پے چلتا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا عمل ناصر دوسروں کے لئے بلکہ اس کی اپنی ذات کے لئے بھی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ تب وہ جانتا ہے کہ انسان کی اہميت کا اور کيوں خدا نے اسے اشرافلمخلوقات کا عہدہ ديا ہے۔ یہ جاننے کے بعد اسکا ہر عمل صرف خدا اور اسکے بندوں کی خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔ اور اسے لگا ہے کہ وہ ٹھيک معانی ميں اب خود کو پہچانا ہے۔