محبت کی حقیقت

محبت کیا ہے؟ یوں تو صرف ایک لفظ ہے۔ محبت کہنے کو لفظ اور محسوس کرنے کا جذبہ ہے اور جذبات کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے لکھا یا بتایا نہیں جا سکتا لیکن اگر ہم اسے کوئی نام دینا بھی چاہے تو غلط نہ ہوگا کہ محبت وہی احساس ہے جو کسی بے جان چیز میں جان ڈال دیتی ہے یہ با لکل ویسی ہی ہے جیسے کسی پودے کو پانی دے کر پھر سے ہرا بھرا کیا جائے تا کہ وہ پھر سے اپنی بھرپور زندگی جی سکے۔ یہ وہ جادو ہے کہ جس کے احساس سے انسان ہر چیز سے بیگانہ ہوجاتا ہے اگر اسے کچھ دکھائی دیتا ہے تو صرف وہ چیز جسے وہ محبت کرتا ہے یوں تو محبت کسی بھی چیز سے ہو سکتی ہے مگر آج کل دور میں لڑکوں کے
منہ سے کسی لڑکی کا یا پھر کسی لڑکی کے منہ سے کسی لڑکے کا نام سننے کو ملتا ہے۔ کیا یہ محبت ہے؟ ہو بھی تو سکتی ہے، وہ بھی تو محبت ہوتی ہے جو کسی بھائی کو اپنی بہن سے ہوتی ہے یا پھر کسی ماں کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ یہ محبت ہو ۔ کبھی کبھی رشتے بھی ضرورت ہوتے ہیں کیوںکہ ان میں دینے سے زیادہ لینے کی چاہت ہوتی ہے، جب غرض ایک دروازے سے داخل ہوتی ہے تو محبت دوسرے دروازے سے نکل جاتی ہے محبت کسی سودہ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف دینے کا نام ہے جیسے خدا اپنے بندوں کو کرتا ہے ا ور محبت کا سب سے بڑا سر چشمہ تو بس اس خدائی کی ذات ہے، کیا اس سے فرق پرتا ہے کہ محبت کس سے اور کتنی ہے؟ شاید نہیں
کیوں کہ محبت ایک پاک سا رشتہ ہے ایک میٹھا سا احساس ۔ ایک ایسا آغاز جکا ختتام نہیں ہوتااور وہ جو ختم ہوجائے وہ محبت نہیںہوتی ، وہ ایک کشش ہوتی ہے اور کشش بھی محبت کا روپ نہیں دھار سکتی۔ یہ تو انسانی فطرت ہے کہ جو ں دوں وہ بدلے میں مل جائے ، نہ ملے تو روتا ہے چلاتا ہے۔ کیا ایسا کرنے سے محبت مل جاتی ہے۔۔ نہین بالکل بھی، اور اگر مل بھی جائے تو وہ محبت ہوتی ہے ہمدردی نہیں۔
آئو سوچتے ہیں کہ محبت کسی کو توڑتی ہے یا جوڑتی ہے۔ کمزور کردیتی ہے یا مضبوط بناتی ہے
بہت مضبوط اتناکہ وہ کھچ بھی کر سکتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ محبت توڑتی ہے تو وہ جوڑ بھی سکتی ہے اس کے راستے میں کانٹے ہوں ، تکلیف دینے والے پتھر ہوں جو درد سے پائوں کو زخمی اور خون سے لہو لہان کردے مگر یہ کسی کو توڑتی نہیں ہے ، اس کا احساس انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا، اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو یہ محبت اتنی مضبوط شکل اختیار کر جاتی ہے کہ چٹان سے ٹکرا جاتی ہے اوریہ محبت ہی ہے جو پتھریلے چٹان کو پگلا کر موم بنا دیتی ہے محبت کے اندر انسان بغیر پروں کے آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے کہ کیا ہے بلندی اور اس چیز کو کھو دینے کا احساس ۔ جسے وہ محبت کرتا ہے تو وہ اتنی ہی بلندی سے خود کو گرا ہو محسوس کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ کوئی آئے اور اس کو اس درد سے نکال لے، مگر کیا ایسے ممکن ہوتا ہے؟ نہیں، جیسے گزرا ہو وقت واپس نہیں آتا اسی طرح ٹوٹا ہوا دل واپس نہیں جڑتا۔مگر ٹوٹ کر بھی انسان خود کو ٹوٹا ہو ا محسوس نہیں کرتا بلکہ وہ پھر سے سنبھلتا ہے چلتا ہے آگے بڑھتا ہے۔ محبت باغ میں خھلے اس پھول کی مانند ہے جو کھلتا ہے تو پورا باغ جگمگا اٹھتا ہے کہ جیسے بہار آگئی ہو ، اور یہی پھول جب مرجھا جاتا ہے تو پورے باغ کی رونق ہی ختم ہوجاتی ہے جس طرح ہر اچھی لگنے والی چیز کو محبت کا نانم نہیں دیا جا سکتا اسی طرح ہر رشتے میں احساس تو ہوتا ہے لیکن محبت بہت کم اور خاص رشتوںمیں ہوتی ہے۔
بقول کچھ لوگوں کہ ہم محبت میں ہار یا پھر جیت گئے کیا یہ ایک کھیل ہے؟ اگر کھیل ہے تو پھر کیوں کسی کو فرق پڑتا ہے کسی کی ہار جیت سے۔ نہیں یہ کھیل نہیں بلکہ ایک میدان ہے جس میں کھلاڑی کھیلنے تو آتے ہیں مگر کون ہارتا ہے یا کون جیتتا ہے اس سے فرق پڑتا ہے کیوں کہ یہ کھیل نہیں ہے ، ایک بار جو اس راستے پر چل پڑا پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، ہاں اس کے راستے میں قدم قدم پر درد او ر کانٹے ہیں جو آپ کے پائوں کو زخمی کر کے لہو لہان کر دے گی مگر اسی درد سے آپ کو خوشی کا احساس بھی ہوتا رہتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں نا ہار گئے یا جیت گئے ایسا محبت میں نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا اور جو ختم ہوجائے وہ محبت نہیں ہوتی کسی کو پا لینا جیت نہیں اور کسی کو کھو دینا ہار نہیں یہ دل کا رشتہ ہوتا ہے جو دنیاوی رشتے جسے رسمی رشتے کہا جاتا ہے اس سے بہت آگے ، دراصل کسی بھی انسان کو اس رشتے کی کمی زیادہ محسوس ہوتی ہے کیوں کہ محبت کے بنا زندگی ایسی ہی ہے جس کا نہ تو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وجود۔یہ جذبہ ہر انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہیاسے بس اپنے ابندر جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اسے کہاں تک اور کس طرح استعمال کرے گابعض لوگ محبت کا دعوہ بہت خوشی سے کرتے ہیں لیکن ان کو خود کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ انھیں خود سے بھی محبت ہے یا نہیں ۔ وہ انسان کسی سے کیا محبت کرے گا جو خود سے ہی محبت نہیں کر پاتا
ہر گز ایسا نہیں ہے کہاجاتا ہے کہ وہ کسی اور سے محبت نہیں کرتا جو خود سے محبت کرتا ہے ایسا کرنا بالکل غلط ہوگاکیونکہ جب آپ اپنے وجود کے احساس سے محروم ہو وہ دوسرے کو کیسے محسوس کر سکتے ہیں دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کے لئے بھی خود کو محسوس کرنا اور ان کے درد کو اپنا درد سمجھ کرمحسوس کرنا ہوتا ہے۔ مانا کہ محبت میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں مگروہ قربانیاں آپ کے رشتے کو پاک بنا دیں ۔ میری نظر میں مرجانا محبت نہیں بلکہ جینا محبت ہے ۔ محبت رسوائی کا نام نہیں بلکہ آباد کرنے کا نام ہے۔ مانا زندگی کے وجود کی اہمیت سے
انکار نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بھی سچ ہے ک محبت صرف ملن نہیں ہے یہ صرف قربانی مانگتی ہے پھر چاہے وہ جدائی ہی شکل میں کیوں نہ ہو۔ یہ بھی سچ ہے کہ آپ کو اپنے وجود کا احساس بھی تبھی ہوتا ہے جب آپ کو کسی دوسرے کے وجود کا احساس ہونے لگے۔اور یہ بھی محبت ہی ہوتی ہے جب آپ کو اپنی خوشی سے زیادہ دوسرے کی خوشی سے عزیز لگیورنہ تو انسان سے زیادہ کوئی خودغرض نہیں ہے ۔ بس احساس ہی وہ واحد چیز ہے جس سے اپنی ہنسی کو محسوس کیا جا سکتا ہے دوسروں میں کھو کر خود کو محسوس کرنے میں خوشیاں ہیں ، درد کا تو کوئی وجود ہی نہیں ، یہ ہوتی ہے محبت، جو درد ، درد کرتے پھرتے ہیں اگر اس درد کع بھی خوشی میں سمیٹ لیں تو کوئی درد نہیں رہتا۔
بس چپ چاپ برداشت کرجانا ہے محبت۔ یہ ہے محبت کی اصل حقیقت اسکو کہا جاتا ہے۔ محبت جس میں قربانی ، اذیت ، احساس ، درد اور دوسروں کی خوشی ہو بس اپنی ہستی ایسی ہو جیسے مٹ چکی ہو، یہ ایک پاک سا بندھن ہے۔ اس انسان پر الزام لگا دینا کہ تم نے یہ کیا اب محبت نہیں رہی۔ یہ صرف باتیں ہیں اپنا اور دوسروں کا دل بہلانے کے لئے ، مگر محبت شروع ہوتی ہے لیکن ختم نہیں ہوتی، جس میں طرح طرح کے مقام ہوتے ہیں ، جس میں عروج و زوال سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اس راہ پر چلتے چلتے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے
اور اس فانی دنیا سے اسکا نام اس کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے کچھ باقی نہیں رہتا ، اور اگر کچھ باقی رہتا ہے تو وہ ہے محبت۔ کیوں کہ محبت کبھی نہیں مرتی، اس کو زوال نہیں آتا۔ یہ ہے محبت کی حقیقت۔

: عروج چوہدریتحریر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *