طلبہ کی کئرئر کونسلنگ

‎ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسلۂ وہ نہیں جانتے کہ انہیں کس منزل کی طرف چلنا چاہئے یا پھر وہ کون سی راہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی منزل پاسکے۔ اس بات سے کوئ بھی انجان نہیں کے بچوں کو راہ دیکھانے کا کام ہمیشہ انکے کے بڑے یعنی ماں باپ کرتے ہیں۔ آجکل اکثر یہ آتا ہے کہ ہمارے نوجوان اپنے شعبے کا فیصلہ خود اپنی خواہش کے مطابق کرتے ہیں یا پھر ماں باپ کی دیکھائ ہوئی راہ پر آنکھیں بند کر کے چل پڑتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کے شعبے کا انتخاب اسے خود کرنا چاہیے۔ ماں باپ کو اپنی رائے بچوں پر مسلت نہیں کرنی چاہیے۔میرا اپنا زاتی خیال یہ ہے مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ ایک بچہ جس راہ پر چلنا چاہتا ہے وہ چل بھی سکتا ہے کہ نہیں یا پھر اسکا اتنا لمبا سفر طے کرنے کا انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ بعض اوقات ماں باپ کی نگاہئں وہ کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں جسے سمجھنے سے بچہ قاصر ہوتا ہے لیکن اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بچوں کی خواہش کو رد کر دیا جائے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان وہ م اچھے سے کرتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔مگر بعض اوقات وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ جو وہ چاہتا ہے کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بچہ جائے تو کد ھر جائے اس بات کو سمجھنے کے لیے نہ صرف اپنی خواہش اور بڑوں کے فیصلے کو عمل میں لانا چاہئے بلکہ اپنے ارد گرد کے حالات کو دیکھنا اور اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچاننا بھی بہت ضروری ہے۔ آخر کار سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے نتیجے پر پہنچنا ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے اس بچے کے لیے مناسب ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *