حب آلوطنی

بعض اوقات ہم اپنی اصليت سے بہت دور انجان کھڑے دوسروں کے عيب تلاش کر رہے ہوتے ہيڻ۔ دوسروں کو تو ہم غور سے ديکھ رہے ہوتے ہيں مگر خود جہاں ہم کھڑے ہيں وہاں ہميڻ ہونا چاہئے کہ نہيں وہ مقام ہمارا ہے کہ نہيں يہ ياد دلانے کے لئے ہميں دوسروں کی نظر کی ضرورت پڑتی ہے۔ کتنی آسانی سے ہم يہ بول ديتے ہېں کہ پاکستان نے ہميں آج تک ديا کيا ہے۔ کبھی ہم ہيں سے ہر شحض نے خود سے پوچھا ہے کہ ہم نے اس کے لېے کيا کيا؟ جب ہم بات لينے اور دينے کی کرتے ہيں تو ہميں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان نے ايسا کيا ہے جو ہمېں نہيں ديا۔ کيا يہ ہمارا گھر نہيں ہے يہاں ہميں تحفظ نہيں ملا کيا ہم اپنے ہر فعل ميں يہاں آزاد نہيں ہے اگر يہاں بھی ہم آزاد محسوس نہيں کرتے يا دل کھول جی نہيں سکتے تو پھر کہاں۔ وہ اور کون سی جگہ ہے جہاں ہم خود اعتمادی سے اپنی ايک سوچ لئے جی سکے۔ جہاں ہمارا ہر فيصلہ اپنا ہو اور ہماری اپنی ايک الگ پہچان۔ يہ سب دا ہے ہميں پاکستان نے۔ اس ملک کے کسی بی صوبے کے لوگ ہوں چاہے وہ آپس مېں مطابقت نہ رکھتے ہوں مگر وقت آنے پر وہ سب ايک پرچم کے تلے صرف پاکستانی بن کے کھړ‎ے ہوتے ہيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *